14؍اگست 1947 ؁ء کو پاکستان معرض وجود میں آگیا جس کے فوراً بعد حضرت مولانا مفتی محمد حسن امرتسری قدس سرہٗ امرتسر سے لاہور تشریف لے آئے کہ یہ اس مملکت کا وجود اللہ تعالیٰ کا فضل اور ان ہی کی کوششوں اور کاوشوں کا نتیجہ تھا، مقصد اسلام کا بول بالا تھا۔ حضرت مفتی صاحب قدس سرہٗ جب لاہور تشریف لائے یہ وہ زمانہ تھا کہ ہر طرف نفسا نفسی کا عالم تھا۔ لٹے پٹے قافلے اپنے کلیم لیے پھرتے نظر آتے تھے ہر اک کو اپنی ہی فکر کھائے جا رہی تھی لیکن حضر ت مفتی صاحب قدس سرہٗ نے ان تمام امور سے صرف نظر فرماتے ہوئے سب سے پہلے جس چیز کا سوچا وہ ایک دینی درسگاہ کا قیام تھا۔ ویسے بھی انبیاء علیھم السلام کی سنت یہی ہے کہ وہ جہاں بھی جاتے سب سے پہلے اللہ کے گھر کی بنیاد رکھتے تھے جیسا کہ حضرت آدم علیھم السلام نے بیت اللہ اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کی بنیادیں رکھیں۔ حضرت مفتی صاحب علیہ الرحمۃ جیسے عالم ربانی کو بھی اللہ تعالیٰ نے یہ توفیق بخشی کہ یہاں پہنچنے پر اپنے خدام کو حکم دیا کہ شہر میں کوئی جگہ مدرسہ کے لیے دیکھی جائے آپ کے خدام میں ایک خادم نصیر پراچہ (مرحوم) بھی تھے جنہوں نے محلہ نیلا گنبد کی بلڈنگ دیکھی اور اس کے بارے میں حضرت مفتی صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ یہ جگہ موزوں رہے گی چنانچہ جب حضرت نے اس عمارت کو دیکھا خوشی کا اظہار فرمایا۔
تعارف جامعہ اشرفیہ لاہور
دارالافتا
اینڈرائد ایپ
آنلائن فتوی
اشرف الفتاوی

logoforjamiabranches.png
جامعہ کے ذیلی ادارے
images/fiqhimage.png
فقہ
images/announcements.jpg
حدیث
images/quran.png
قرآن
images/announcements.jpg
موبائل ایپلیکیشنز