معہد ام القریٰ
اھداف و مقاصد
علماء کرام اور دینی مدارس کے طلباء کو عصرِ جدید کے تقاضوں سے آشنا کرنا جدید انفارمیشن و ٹیکنالوجی کے اس دور میں کمپیوٹر کی افادیت سے متعارف کروانا تاکہ جدید ذرائع ابلاغ سے دینِ اسلام کے پیغام کو مؤثر طریقے سے دنیا کے گوشہ گوشہ تک پھیلایا جا سکے۔
مغربی فکر و تہذیب کے مسلم معاشرے پر اثرات کا مطالعہ اور علم دین کی روشنی میں ان کا تدارک۔
عربی کے علاوہ دیگر عصری اور بین الاقوامی زبانوں کی تعلیم سے روشناس کروانا۔
انگریزی زبان کی ضروری تعلیم دیناتاکہ علماء کرام بلا واسطہ خود ترجمہ اور جدید انگریزی لٹریچر کا مطالعہ کر سکیں تاکہ ان میں اس پر فتن دور میں مغرب کی طرف سے اٹھائے جانے والے اعتراضات کا علمی جواب بھی انگریزی میں دینے کی صلاحیت اور انگریزی خطابت کی استطاعت پیدا ہو سکے۔
قدیم و جدید علوم کا ایسے طریقے سے امتزاج پیدا کرنا جس سے علوم قدیمہ کا استحضار اور علوم جدیدہ سے آگاہی حاصل ہو سکے۔
جدید فقہی مسائل کا تعارف اور ان پر تحقیق
جدید اصول تحقیق
مروجہ علوم کا تعارف (تقابل ادیان وفرَق باطلہ، فلسفہ، سائنس، نفسیات اور معاشیات)۔
تزکیہ باطن اور سلوک و احسان کی عملی تربیت(تصوف کی کتب، آئمہ،تصوف کا تعارف اور ان کی تعلیمات)
کسی بھی عملی میدان میں کار آمد شخصیت بنانا(دعوت، تبلیغ، تحریر، صحافت، تدریس)
فضلاء میں (دعو ت ، تبلیغ و تقریر وغیرہ کے)داعیانہ اوصاف پیدا کرنا۔
فضلاء میں عوام الناس کی راہنمائی کی اہلیت پیدا کرنا۔
کمپیوٹر کی تعلیم
کمپیوٹر کی بنیادی تعلیم چونکہ وقت کا تقاضا ہے اس لیے کمپیوٹر کے ابتدائی کورس ایم ایس کے علاوہ عربی اور اُردو کا ان پیج، انٹرنیٹ، ای میل اور ویب پیج کی تعلیم کے ساتھ اسلامی اور مخالف اسلام ویب سائٹس کا مطالعہ بھی کروایا جائے تاکہ معہد ام القریٰ سے فارغ التحصیل علماء کرام خود تحصیل علومِ دین کے لیے جدید ذرائع ابلاغ استعمال کرنے کے قابل ہو جائیں۔ قرآن پاک اور احادیث مبارکہ اور متفرق اسلامی معلومات پر مبنی CDs کا مطالعہ اور ان پر تحقیقی کام کروانا۔ خدمات کسی ملک کی ترقی کا اندازہ اس کی خوشحالی سے لگایا جا تا ہے جبکہ دینی مدرسہ کی ترقی کا اندازہ اس کے فیض یافتہ، علماء، حفاظ، قراٗ اور مفتیان کرام اور ان حضرات کی تصانیف و تالیفات اور تحقیق کے میدان میں کارکردگی سے کیا جاتا ہے۔ تصنیف و تالیف اور تحقیق کے میدان میں اساتذہ و شیوخ اور فاضلین جامعہ اشرفیہ کی تصانیف اتنی بڑی تعداد میں ہیں کہ ان کا احاطہ کسی بھی مختصر تحریر میں کرنا محال ہے۔ جامعہ اس کے لیے ایک الگ کیٹلاگ شائع کر رہا ہے۔