تعارف جامعہ اشرفیہ لاہور
مسجد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم میں قائم ہونے والی پہلی دینی درسگاہ جو اس مسجد کے اس چبوترے پر قائم کی گئی تھی جو آج بھی مسجد نبوی ﷺ میں زائرین کی کشش کا سبب ہے جس پر بیٹھ کر پڑھنے والے طلبہ (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم) اصحاب صفہ کہلاتے تھے اس درسگاہ کے سلسلۃ الذھب کی کڑیوں کو گننا یقیناًانسانی بس کی بات نہیں۔ برصغیر کی درسگاہوں کا جال بھی سمیٹنا اتنا آسان نہیں کہ ان کا احصاء اور شمار حدو حساب سے باہرہے۔ خصوصاً ان درسگاہوں کی افادیت اور کثرت میں اس وقت اور بھی اضافہ ہوا جب انگریز نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا جال بننا شروع کر دیا۔ مسلمانوں کے دلوں میں انگریز کی اس حرکت کے خلاف غم و غصہ کا پیدا ہونا ایک فطرتی عمل تھا جس کے اظہار کے لیے انہوں نے اسلامی تعلیمات کو مزید اجاگر کرنا اور اس پر عمل پیر ا ہونا شروع کر دیا۔ ہندوستان میں جب انگریز کے خلاف تحریک چلی اور اہل ہند نے باہمی اشتراک سے انگریز کو نکال باہر کیا تو بعد ازاں ہندوؤں نے مسلمانوں کے خلاف وہی حربے آزمانے شروع کر دئیے جن کا شکار یہ خود اور مسلمان پہلے سے چلے آرہے تھے۔ ہندوؤں نے مسلمانوں کو اتنا پریشان کر دیا کہ انہوں نے اپنے لیے ایک الگ ریاست کا مطالبہ اور پھر اس کے حصول کے لیے تحریک شروع کر دی بیسویں صدی میں چلنے والی اس تحریک کو تحریک پاکستان کا نام دیا گیا۔ اس تحریک کی قیادت مسلم لیگ نے کی جس کی سربراہی کا شرف قائد اعظم محمد علی جناح کو حاصل تھا اور پھر اکابر علماء اُمت حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی، حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی، حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندی، حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی اور حضرت مفتی محمد حسن امرتسری قدس سرھم کے علاوہ دیگر اکابر علماء دیوبند کی اسے کامل حمایت اور سرپرستی حاصل تھی۔ 1947 ؁ء میں تحریک کامیاب ہوئی اور اللہ تعالی نے وہ ملک عطا فرما دیا جسے آج دنیا کے نقشہ میں پاکستان کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے تاریخ شاہد ہے کہ اس ملک کا حصول دو قومی نظریے کی بنیاد پر تھا۔ مسلمان ایک ایسی مملکت چاہتے تھے جس میں مسلمان اسلامی نظام کے تحت اپنی زندگیاں آزادانہ طور پر گزار سکیں۔ ایک اسلامی مملکت کا تصور اور اس کا نقشہ سب سے پہلے 1928 ؁ء میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نے دیا تھا جس کے راوی مولانا عبدالماجد دریا آبادی ہیں اور پھر 1931 ؁ء میں علامہ اقبال ؒ نے بھی اس کی غیبی تائید فرمائی۔ 14؍اگست 1947 ؁ء کو پاکستان معرض وجود میں آگیا جس کے فوراً بعد حضرت مولانا مفتی محمد حسن امرتسری قدس سرہٗ امرتسر سے لاہور تشریف لے آئے کہ یہ اس مملکت کا وجود اللہ تعالیٰ کا فضل اور ان ہی کی کوششوں اور کاوشوں کا نتیجہ تھا، مقصد اسلام کا بول بالا تھا۔ حضرت مفتی صاحب قدس سرہٗ جب لاہور تشریف لائے یہ وہ زمانہ تھا کہ ہر طرف نفسا نفسی کا عالم تھا۔ لٹے پٹے قافلے اپنے کلیم لیے پھرتے نظر آتے تھے ہر اک کو اپنی ہی فکر کھائے جا رہی تھی لیکن حضر ت مفتی صاحب قدس سرہٗ نے ان تمام امور سے صرف نظر فرماتے ہوئے سب سے پہلے جس چیز کا سوچا وہ ایک دینی درسگاہ کا قیام تھا۔ ویسے بھی انبیاء علیھم السلام کی سنت یہی ہے کہ وہ جہاں بھی جاتے سب سے پہلے اللہ کے گھر کی بنیاد رکھتے تھے جیسا کہ حضرت آدم علیھم السلام نے بیت اللہ اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کی بنیادیں رکھیں۔ حضرت مفتی صاحب علیہ الرحمۃ جیسے عالم ربانی کو بھی اللہ تعالیٰ نے یہ توفیق بخشی کہ یہاں پہنچنے پر اپنے خدام کو حکم دیا کہ شہر میں کوئی جگہ مدرسہ کے لیے دیکھی جائے آپ کے خدام میں ایک خادم نصیر پراچہ (مرحوم) بھی تھے جنہوں نے محلہ نیلا گنبد کی بلڈنگ دیکھی اور اس کے بارے میں حضرت مفتی صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ یہ جگہ موزوں رہے گی چنانچہ جب حضرت نے اس عمارت کو دیکھا خوشی کا اظہار فرمایا۔ اس بلڈنگ کا مالک ایک ہندو تھا جس کا نام مولچند تھا وہ بھی امرتسر ہی کا رہنے والا تھا جہاں حضرت مفتی صاحب قدس سرہٗ مسجد خیر دین میں درس دیا کرتے تھے اور جامعہ نعمانیہ کے صدر مدرس کی حیثیت سے تدریسی فرائض سرانجام دیتے تھے۔ گو جامعہ نعمانیہ کے اصل بانی مولانا نور احمد مرحوم تھے لیکن اس کا جملہ نظم و نسق اور پھر اس کو تدریسی رونق حضرت مفتی صاحب نے ہی بخش رکھی تھی۔ اس ہندو کو جب یہ معلوم ہوا کہ حضرت مفتی صاحب یہاں مدرسہ کھولنے کا ارادہ فرما رہے ہیں تو اس نے یہ کہتے ہوئے اس بلڈنگ کی چابیاں حضرت کے حوالے کر دیں کہ آپ یہاں وہ فریضہ انجام دیں جو امرتسر میں دیا کرتے تھے۔ حضرت مفتی صاحب قدس سرہ نے 14ستمبر 1947 ؁ء کو اس مدرسے کا نام اپنے شیخ و مرّبی حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی کے اسم گرامی سے منسوب کرتے ہوئے جامعہ اشرفیہ رکھا اور 24ستمبر 1947 ؁ء کو یہاں باقاعدہ تدریس کا آغاز کر دیا گیا، شروع شروع کے دو تین سال تک دورہ حدیث کی کلاس کا اجراء نہ ہو سکا۔ ابتدائی درجات کی تعلیم ہوتی رہی اکابر علماء کرام کی مشاورت سے 1949/50 ؁ء میں دورہ حدیث کا آغاز کر دیا گیا جو بحمدہٖ تعالیٰ اپنی پوری آب و تاب سے اب تک جاری ہے۔ یہ حضرت مفتی صاحب قدس سرہ ٗکا اخلاص اور اللہ تعالیٰ کا فضل ہی تھا کہ ایک نو زائیدہ مملکت میں انتہائی بے سروسامانی کے عالم میں قائم ہونے والے اس ادارے کو اتنی قبولیت کا شرف حاصل ہوا کہ ملک کے کونے کونے سے طلبہ کھنچے کھنچے آنے لگے۔ نیلا گنبد کی یہ چار منزلہ بلڈنگ باوجود اپنی وسعت دامانی کے تنگ ہو گئی۔ حضرت نے خدام جامعہ کا اجلاس بلا کر یہ مسئلہ ان کے سامنے رکھا کہ یہاں جگہ تنگ ہو گئی ہے طلبہ کثرت سے آرہے ہیں شہر کے مضافات میں کوئی جگہ دیکھی جائے جس پر کچھ تعمیرات کر کے طلبہ کو وہاں منتقل کیا جائے۔ طے پایا کہ حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی قدس سرہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو زمین کا انتخاب کرے۔ زمانہ بھی بڑا تنگی کا تھا روپیہ پیسہ نام کا بھی نہیں تھا۔ ان حالات میں زمین کا خریدنا بظاہر ناممکن تھا۔ بہرحال قلندر ہر چہ گوید دیدہ گوید۔ حضرت کا حکم تھا کمیٹی تشکیل دی گئی اور پھر اس نے مفوضہ امور کی انجام دہی کیلئے کوششیں شروع کر دیں۔ یہاں ایک اہم واقعہ جو کہ دراصل حضرت مولانا ادریس کاندھلوی ؒ کی ایک کرامت سے متعلق ہے ذکر کرنا خالی از دلچسپی نہ ہو گا وہ یہ کہ زمین کی خریداری کے مشورہ کے ساتھ ہی زمین کے بارہ میں یہ مشورہ شروع ہوا کہ کتنی خریدی جائے۔ حضرت مفتی محمد حسنؒ کی رائے7/8کنال کی تھی جبکہ حضرت مولانامحمد ادریس کاندھلوی صاحب کا فرمانا یہ تھا کہ کم از کم 100سے 120 کنال تک ہوتا کہ آئندہ کبھی بھی جامعہ کی وسعت میں رکاوٹ نہ ہو بہرحال یہ دونوں رائے اپنی جگہ موجود تھیں اور زمین کی تلاش شروع کر دی گئی۔ زمین کی تلاش میں شاہدرہ ، ملتان روڈ سے ہوتے ہوئے یہ حضرات مسلم ٹاؤن کی موجودہ جگہ پر پہنچے جہاں ٹیلے ہی ٹیلے تھے ہر طرف بیابان جنگل تھا اس وقت اچھرہ سے آگے کوئی آبادی نہیں تھی۔ کمیٹی کے ممبران نے موجودہ جگہ منتخب کی جو 120 کنال پر مشتمل تھی اور اس کے مالک نے کہا کہ میں یہ پوری کی پوری 120کنال ہی فروخت کروں گا اگر سودا کرنا ہو تو کرلیں۔ پہلی ہی ملاقات میں سودا طے پایا گیا۔ زمین خرید لی گئی یہ واقع 1953 ؁ء کا ہے۔ اس وقت موجودہ جامعہ اسی قطعہ اراضی پر قائم ہے۔ زمین کی خریداری کے بعد یہاں سب سے پہلے مسجد کی تعمیر ہوئی 1958 ؁ء میں دورۂ حدیث کی کلاس جامعہ نیلا گنبد سے یہاں منتقل ہو گئی۔ 1961 ؁ء میں حضرت مفتی صاحب قدس سرہٗ کا انتقال ہو گیا اس کے بعد جامعہ کے اہتمام کی ذمہ داری حضرت مولانا محمد عبیداللہ صاحب دامت برکاتہم کے کندھوں پر پڑی یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل اور حضرت مفتی صاحب قدس سرہٗ کی کرامت ہے کہ حضرت مولانا محمد عبیداللہ صاحب مدظلہ کے دور میں جامعہ نے پہلے سے بھی زیادہ ترقی کی۔ جامعہ نے وقتی ضرورتوں کا ہمیشہ خیال رکھا جس کا بین ثبوت بچیوں کے شعبہ کا اجراء، جدید علوم کی تعلیم اور طب اسلامی جیسے شعبہ کا قیام ہے۔ جامعہ نے دور حاضر کے تقاضوں کے پیش نظر عصری علوم کا بھی باقاعدہ نظم کر لیا ہے۔ جس کے تحت بچیوں کے لیے پنجاب یونیورسٹی سے ملحقہ گرلز کالج، سیکنڈری بورڈ سے الحاق یافتہ بچوں اور بچیوں کے لیے ہائی اسکول اور معروف عصری زبانوں کا ادارہ معہد ام القریٰ کے نام سے قائم کر دیئے گئے ہیں۔ یہ بھی جامعہ کا ایک اعزاز ہے کہ اسے حضرت مفتی صاحب قدس سرہ کی وجہ سے حضرت مولانا علامہ سید سلیمان ندویؒ ، مولانا عبدالماجد دریا آبادیؒ ، حضرت مولانامفتی محمد شفیع دیوبندیؒ ، حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ ، حضرت مولانا شمس الحق افغانیؒ ، حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ ، حضرت مولانا رسول خان ہزارویؒ ، حضرت مولانا محمد مالک کاندھلویؒ ، حضر ت مولانا محمد موسیٰ روحانی بازیؒ اور حضرت مولانا داؤد غزنوی قدس اسرارھم جیسے اکابرین کی سرپرستی حاصل رہی ہے۔ اور اب ماشاء اللہ اس جامعہ کو اہم شخصیات کی خدمات حاصل ہیں۔ جامعہ اشرفیہ کی تاریخ گواہ ہے کہ اس نے یوم تاسیس سے لے کر آج تک ہمیشہ غیر سیاسی طور پر مثبت انداز میں دینی خدمات کا فریضہ سرانجام دیا ہے۔ جامعہ نے کبھی بھی فرقہ واریت کی تعلیم نہیں دی اور نہ ہی جامعہ کے اکابرین کے ہاں ایسا کرنا کوئی امر مستحسن ہے۔ اتحاد امت اور مثبت انداز میں تعلیم و تربیت اس کی بنیادی پالیسی ہے۔
اغراض و مقاصد
-1تمام مسلمانوں میں علوم دینیہ قرآن و حدیث، عقائد، فقہ اور ان سے متعلق علوم کی ترویج و اشاعت۔
-2ضروریات دین اور وقت کے تقاضوں کے مطا بق قرآن ، حدیث و عقائد اور فقہ کی محققانہ تعلیم۔
-3تبلیغ، افتاء، تصنیف و تالیف کے شعبوں میں عمدہ صلاحیت کے حامل علماء تیار کرنا۔
-4دار الافتاء کا قیام، جہاں سے عام مسلمانوں کو قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کے مطابق مسائل کے بارے میں آگاہ کرنا۔
-5انفرادی اور اجتماعی زندگی کے بارے میں احکامِ اسلام کے مطابق عملی شعور پیدا کرنا۔
-6 درس نظامی کے ساتھ ساتھ عصری علوم کی تعلیم دینا۔
تعلیم قرآن
حفظ
یہ شعبہ ماہر اساتذہ کی زیر نگرانی چل رہا ہے جس میں سینکڑوں بچے ہر سال تعلیم حاصل کرتے ہیں اس شعبہ میں زیادہ تر چھوٹے بچے ہی تعلیم حاصل کرتے ہیں لیکن اس شعبہ کا حقیقی مقصد یہ ہے کہ شہر کے جو حضرات اپنے بچوں کو قرآن مجید حفظ کروانا یا ناظرہ پڑھاناچاہیں وہ اس سے استفادہ کریں تاکہ بچے قرآن مجید کو صحیح مخارج و صفات کے ساتھ درست طریق پر تلاوت کر سکیں۔ اب تک ہزاروں بچے اس شعبہ سے فارغ ہو چکے ہیں۔ چنانچہ رمضان المبارک میں لاہور کی اکثر مساجد میں قرآن مجید سنانے والے حفاظ جامعہ ہی کے فارغین ہوتے ہیں۔ اب حافظات کے لیے مدرسۃ الفیصل للبنات 37/38 اے ماڈل ٹاؤن میں ایک خوبصورت ہال تعمیر کیا گیا ہے جس میں شعبہ حفظ میں محدود تعداد میں بچیوں کو داخلہ دیا جائے گا۔ گو جامعہ کی منتظمہ بچیوں کے حفظ کی حوصلہ افزائی اس لیے نہیں کرتی کہ بچیاں بڑی ہو کر گھریلو مصروفیات کی وجہ سے حفظ باقی نہیں رکھ سکتیں جو بہت بڑا گناہ ہے تاہم اگر والدین کا اصرار ہو تو پھر حفظ بھی کروا دیا جاتا ہے۔
ناظرہ
اس کا مقصد یہ ہے کہ جو بچے باضابطہ حفظ نہیں کر سکتے ان کو صحیح قواعد کے مطابق ناظرہ قرآن پاک پڑھا دیا جائے تاکہ بچہ اگر دنیوی تعلیم میں مشغول ہو تو قرآن کی برکات سے محرومی اور اسلامی تعلیمات سے دوری پیدا نہ ہو۔ اس شعبہ سے بھی اب تک ہزاروں طلبہ مستفید ہو چکے ہیں۔
تجوید
قرآن پاک کا حق یہ ہے کہ ا س کو مخارج و صفات کے تمام قواعد کا لحاظ رکھ کر پڑھا جائے۔ اس کے لیے جامعہ میں باقاعدہ شعبہ تجوید قائم کیا گیا ہے جس میں سبعہ عشرہ تک کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس شعبہ سے بھی اب تک بڑی تعداد میں قراء اورمجودین استفادہ کر چکے ہیں۔
درس نظامی
جامعہ اشرفیہ کے شعبوں میں سے ایک اہم شعبہ درس نظامی کا ہے جس میں علم تفسیر، حدیث، فقہ اور علوم آلیہ یعنی منطق فلسفہ، صرف اور نحو پر مشتمل تقریباً بتیس علوم پڑھائے جا تے ہیں۔ اس شعبہ میں میٹرک پاس طالب علم کو داخل کیا جاتا ہے۔ میٹرک سے کم استعداد کے طالب علم کو داخلہ نہیں دیا جاتا۔ میٹرک کے بعد آٹھ سال تک مروجہ اور وقتی تقاضوں سے ہم آہنگ ترمیم شدہ درس نظامی کی مکمل تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کے بعد جامعہ سے فراغت پر جو سند یا ڈگری عطا کی جاتی ہے وہ حکومت پاکستان کے ہاں U.G.C کے نوٹیفیکیشن نمبر ی ۔۔۔۔۔کے تحت ڈبل ایم اے( ایم اے عربی اور ایم اے اسلامیات) کے مساوی تسلیم شدہ ہے۔
یونیورسٹی گریجویٹ کے لئے چار سالہ کورس
اس کورس کا دورانیہ چار سال ہے۔ اس میں ایسے طلباء کو داخل کیا جاتا ہے جن کی تعلیم کم از کم B-A ہو اس کا مقصد گریجویٹس حضرات کو علم دین اور احکام شرعیہ کے ضروری مسائل سے آگاہ کرنا ہے اس کورس میں فہم قرآن و حدیث کی صحیح تفہیم کیلئے ابتدائی عربی گرائمر( نحو و صرف) اور دیگر علوم ضروریہ سکھائے جاتے ہیں۔ قرآن کریم کو صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھانے کے ساتھ ساتھ مکمل علم تجوید بھی پڑھایا جاتا ہے۔ جبکہ چوتھے سال میں دورہ حدیث شریف کروایا جاتا ہے۔
اغراض و مقاصد(چار سالہ عالم ڈپلومہ کورس)
1۔ قرآن کریم وسنت کی صحیح تعلیمات سے آگاہ کرنا
-2دینی مدارس اور یونیورسٹی و کالج کے طلباء کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنااور ان دونوں اداروں کے درمیان پیدا شدہ فاصلوں کو ختم یا کم کرنا۔
3۔ مغربی فکر و تہذیب کے مسلم امّہ پر پڑنے والے برے اثرات کا علمِ دین کی روشنی میں ازالہ کرنا۔
4۔ تزکیہ نفس، عملی تربیت کرنا اور داعی اسلام بنانا۔