تعلیم قرآن
حفظ
یہ شعبہ ماہر اساتذہ کی زیر نگرانی چل رہا ہے جس میں سینکڑوں بچے ہر سال تعلیم حاصل کرتے ہیں اس شعبہ میں زیادہ تر چھوٹے بچے ہی تعلیم حاصل کرتے ہیں لیکن اس شعبہ کا حقیقی مقصد یہ ہے کہ شہر کے جو حضرات اپنے بچوں کو قرآن مجید حفظ کروانا یا ناظرہ پڑھاناچاہیں وہ اس سے استفادہ کریں تاکہ بچے قرآن مجید کو صحیح مخارج و صفات کے ساتھ درست طریق پر تلاوت کر سکیں۔ اب تک ہزاروں بچے اس شعبہ سے فارغ ہو چکے ہیں۔ چنانچہ رمضان المبارک میں لاہور کی اکثر مساجد میں قرآن مجید سنانے والے حفاظ جامعہ ہی کے فارغین ہوتے ہیں۔ اب حافظات کے لیے مدرسۃ الفیصل للبنات 37/38 اے ماڈل ٹاؤن میں ایک خوبصورت ہال تعمیر کیا گیا ہے جس میں شعبہ حفظ میں محدود تعداد میں بچیوں کو داخلہ دیا جائے گا۔ گو جامعہ کی منتظمہ بچیوں کے حفظ کی حوصلہ افزائی اس لیے نہیں کرتی کہ بچیاں بڑی ہو کر گھریلو مصروفیات کی وجہ سے حفظ باقی نہیں رکھ سکتیں جو بہت بڑا گناہ ہے تاہم اگر والدین کا اصرار ہو تو پھر حفظ بھی کروا دیا جاتا ہے۔
ناظرہ
اس کا مقصد یہ ہے کہ جو بچے باضابطہ حفظ نہیں کر سکتے ان کو صحیح قواعد کے مطابق ناظرہ قرآن پاک پڑھا دیا جائے تاکہ بچہ اگر دنیوی تعلیم میں مشغول ہو تو قرآن کی برکات سے محرومی اور اسلامی تعلیمات سے دوری پیدا نہ ہو۔ اس شعبہ سے بھی اب تک ہزاروں طلبہ مستفید ہو چکے ہیں۔
تجوید
قرآن پاک کا حق یہ ہے کہ ا س کو مخارج و صفات کے تمام قواعد کا لحاظ رکھ کر پڑھا جائے۔ اس کے لیے جامعہ میں باقاعدہ شعبہ تجوید قائم کیا گیا ہے جس میں سبعہ عشرہ تک کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس شعبہ سے بھی اب تک بڑی تعداد میں قراء اورمجودین استفادہ کر چکے ہیں۔
درس نظامی
جامعہ اشرفیہ کے شعبوں میں سے ایک اہم شعبہ درس نظامی کا ہے جس میں علم تفسیر، حدیث، فقہ اور علوم آلیہ یعنی منطق فلسفہ، صرف اور نحو پر مشتمل تقریباً بتیس علوم پڑھائے جا تے ہیں۔ اس شعبہ میں میٹرک پاس طالب علم کو داخل کیا جاتا ہے۔ میٹرک سے کم استعداد کے طالب علم کو داخلہ نہیں دیا جاتا۔ میٹرک کے بعد آٹھ سال تک مروجہ اور وقتی تقاضوں سے ہم آہنگ ترمیم شدہ درس نظامی کی مکمل تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کے بعد جامعہ سے فراغت پر جو سند یا ڈگری عطا کی جاتی ہے وہ حکومت پاکستان کے ہاں U.G.C کے نوٹیفیکیشن نمبر ی ۔۔۔۔۔کے تحت ڈبل ایم اے( ایم اے عربی اور ایم اے اسلامیات) کے مساوی تسلیم شدہ ہے۔
یونیورسٹی گریجویٹ کے لئے چار سالہ کورس
اس کورس کا دورانیہ چار سال ہے۔ اس میں ایسے طلباء کو داخل کیا جاتا ہے جن کی تعلیم کم از کم B-A ہو اس کا مقصد گریجویٹس حضرات کو علم دین اور احکام شرعیہ کے ضروری مسائل سے آگاہ کرنا ہے اس کورس میں فہم قرآن و حدیث کی صحیح تفہیم کیلئے ابتدائی عربی گرائمر( نحو و صرف) اور دیگر علوم ضروریہ سکھائے جاتے ہیں۔ قرآن کریم کو صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھانے کے ساتھ ساتھ مکمل علم تجوید بھی پڑھایا جاتا ہے۔ جبکہ چوتھے سال میں دورہ حدیث شریف کروایا جاتا ہے۔
اغراض و مقاصد(چار سالہ عالم ڈپلومہ کورس)
1۔ قرآن کریم وسنت کی صحیح تعلیمات سے آگاہ کرنا
-2دینی مدارس اور یونیورسٹی و کالج کے طلباء کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنااور ان دونوں اداروں کے درمیان پیدا شدہ فاصلوں کو ختم یا کم کرنا۔
3۔ مغربی فکر و تہذیب کے مسلم امّہ پر پڑنے والے برے اثرات کا علمِ دین کی روشنی میں ازالہ کرنا۔
4۔ تزکیہ نفس، عملی تربیت کرنا اور داعی اسلام بنانا۔