جامعہ اشرفیہ نیلا گنبد لاہور
وہ جگہ کہ جہاں سے جامعہ اشرفیہ کا آغاز ہوا تھا آج وہاں بھی سینکڑوں طلباء ہر سال زیر تعلیم رہتے ہیں۔ درسِ نظامی کے درجہ عالیہ کے سال اول تک تعلیم دی جاتی ہے طلبہ کی کثرت اور جگہ کی تنگی کے باعث ہر درجہ کو دو حصوں (مقیم اور غیر مقیم) میں تقسیم کیا گیا ہے۔ درجہ حفظ کے تین شعبے ماہر اساتذہ کی نگرانی میں کام کر رہے ہیں جبکہ تمام درجات میں تجوید و قرأت لازمی مضمون ہے۔
مدرسۃ الحسن مل پور حسن ابدال
حضرت مفتی محمد حسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے آبائی گاؤں میں یہ مدرسہ قائم کیا گیاہے۔ یہاں عرصہ دراز سے بچوں اور بچیوں کو قرآن و حدیث کی ابتدائی تعلیم دی جا رہی ہے، طالبات کے لیے مدرسہ کی تعمیر جاری ہے۔
مدرسۃ الصادق جامعہ اشرفیہ رائے ونڈ
یہاں پر مقامی اور بیرونی طلباء درسِ نظامی کے درجہ ثانویہ خاصہ تک تعلیم حاصل کر رہے ہیں جبکہ شعبہ حفظ و ناظرہ اس کے علاوہ ہے۔ اس مدرسہ میں بچوں کی طرح بچیوں کا شعبہ بھی کام کر رہا ہے جس کے تحت بچیوں کی تعلیم بھی ثانویہ خاصہ تک ہو رہی ہے۔
القباء للمساکین جوہر ٹاؤن
لاہور کے جدید اور پوش علاقے جوہر ٹاؤن میں 2کنال اراضی پر قائم القباء للمساکین میں ثانویہ خاصہ تک تعلیم دی جا رہی ہے۔ اس برانچ میں بھی بڑی تعداد میں طلبہ کو رہائشی داخلہ دیا جاتا ہے جن کے خوردو نوش کے جملہ اخراجات جامعہ اشرفیہ برداشت کرتا ہے۔
مدرستہ فیصل للبنات جامعہ اشرفیہ 37-38 A بلاک ماڈل ٹاؤن لاہور
حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمۃ اللہ علیہ سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند نے 14شعبان 1398ھ بروز جمعۃ المبارک اس کا سنگ بنیاد رکھا۔ 16جمادی الاخری 1399ھ / 14 مئی 1979 ء بروز پیر سے باقاعدہ تدریس کا آغاز ہوا۔ آج تک کم وبیش ہزاروں ملکی اور غیر ملکی طالبات نے علم دین حاصل کیااوراس وقت پاکستان و دیگر ممالک میں علم دین کی اشاعت میں مصروف ہیں۔ ثانویہ عامہ میں کم از کم میٹرک پاس طالبہ کو داخلہ دیا جاتا ہے۔ داخلہ میرٹ کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ شعبان اور رمضان میں داخلے کی درخواستیں وصول کی جاتی ہیں، پڑھائی شوال سے شروع ہوتی ہے۔ مصروف خواتین کو وقتا فوقتاً عقائد و نماز، معاشرت، سیرتِ طیبہ اور اخلاقیات وغیرہ کے ضروری مسائل پر مشتمل مجموعی طور پر 42 گھنٹوں کے، ہفت روزہ تربیتی کورسز بھی کروائے جاتے ہیں۔
مدرسۃ اشرفیہ للبنات، 140احمد بلاک گارڈن ٹاؤن لاہور
یہاں بچیوں کو حفظ اور و ناظرہ قرآن مجید کی تعلیم دی جاتی ہے اس کا تعلیمی نظام مدرسۃ الفیصل للبنات کے تعلیمی نظام سے مربوط ہے۔
مدرسہ تعلیم الاسلام للبنات جامعہ اشرفیہ گارڈن ٹاؤن لاہور
یہاں پر شہری اور بیرونی طالبات کو حفظ و ناظرہ کے علاوہ شعبہ کتب میں ثانویہ عامہ تک کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کا تعلیمی نظام بھی مدرسۃ فیصل للبنات کے تعلیمی نظام سے مربوط ہے۔
اشرفیہ گرلز کالج
دور جدید کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے جامعہ کی انتظامیہ نے خواتین کی اعلیٰ دینی وعصری تعلیم و تربیت کے لیے بین الاقوامی معیار کا حامل ادارہ قائم کیا ہے۔ جس میں عالمہ کورس کے ساتھ ساتھ او لیول، اے لیول سے لے کر ایم اے تک کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ جس کے لیے جدید طرز تعمیرکے مطابق سنٹرلی ائیر کنڈیشنڈ خوبصورت بلڈنگ تعمیر کی گئی ہے جو کمپیوٹر لیب، کارپٹڈکلاس رومز، کانفرنس روم، معیاری ہاسٹل، جدید میس، خوبصورت پلے گراؤنڈ جیسی اعلیٰ سہولتوں سے آراستہ ہے۔ اس کالج کا الحاق سرکاری چٹھی نمبری کے تحت باقاعدہ طور پر پنجاب یونیورسٹی سے بھی ہو چکا ہے۔ جب کہ لاہور بورڈ اشرفیہ گرلز کالج کا الحاق پہلے سے ہی ہو چکا ہے۔
جامعہ بیت القرآن 872N سمن آباد لاہور
سمن آباد لاہور میں جامعہ کی زیر نگرانی اس ادارہ میں بچوں اور بچیوں کو قرآن کریم حفظ کرانے کے ساتھ ساتھ بچیوں کیلئے چار سالہ عالمہ کورس کی تعلیم بھی دی جا رہی ہے اس کے علاوہ خواتین کیلئے قرآن کریم کے ترجمہ اور تجوید کی تعلیم کا بھی انتظام ہے۔
اقراء بدر الاطفال
علامہ اقبال ٹاؤن میں اس ادارہ میں بچوں کو قرآن کریم حفظ کرایا جاتا ہے۔
مدرسۃ الحسن گجرپورہ بیدیاں روڈ
مدرسۃ الحسن میں جامعہ کے زیر انتظام حفظ و ناظرہ قرآنِ کریم کی تعلیم دی جاتی ہے۔
جامع مسجد شاہ رکن عالم ومدرسۃ الحسن میاں چنوں
میاں چنوں میں ایک صاحب خیرنے ایک قطعہ زمین جامعہ کیلئے وقف کیا ہے جس میں مسجد کی تعمیر جاری ہے اور اسکے ساتھ ساتھ حفظ و ناظرہ قرآن کریم کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔